گلبرگہ12مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) رکن پارلیمینٹ گلبرگہ و پارلیمینٹ میں کانگریس پارٹی کے قائد ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے نے جمعرات کے دن گلبرگہ میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر پارٹی کے سینئیر قائیدین کانگریس پارٹی کے کرناٹک یونٹ کی قیادت کے لئے موزوں لیڈر کی تلاش کے ضمن میں ان سے مشاورت کرتے ہیں تو وہ ضرور اپنی رائے سے واقف کروائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں کانگریس ہائی کمان نے اب تک ان سے کوئی رائے نہیں طلب کی ہے اور نہ ہی انھیں کوئی اشارہ ملا ہے۔ اس کے علاوہ میں خود بھی اپنے آپ کو پیچید گیوں میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ اپنے سابق تجربات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ سابق میں صدر کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے عہدہ کا جائیزہ لینے سے قبل وہ ملیشیا ء میں تھے، جب کہ محترمہ سونیا گاندھی نے ان سے واپس آنے کے لئے کہا تھا،انھوں نے کہا کہ محترمہ سونیا گاندھی کی ہدایت پر وہ آسکر فرنانڈیس ے ملے جنھوں نے ان سے کہا کہ وہ بحیثیت صدر کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے عہدہ کا جائزہ لیں۔ اسی طرح ایک بار وہ جب بدھ گیا کے سفر پر راستہ میں تھے تو اس وقت مسٹر غلام نبی آزاد نے ان سے کہا تھا کہ وہ بحیثیت مرکزی وزیر اپنے عہدہ کا جائیزہ لیں۔ لہٰذا ایسے ؤحالات میں میں اس وقت تک کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا جب تک کہ پارٹی کے سینئیر قائیدین انھیں مطلع نہ کریں۔ کھرگے نے کہا کہ چند افراد نے خود اپنے طور پر سوچتے ہوئے ایسی باتیں لکھی ہیں کہ وہ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کے عہدہ کے خواہشمند ہیں۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ جب کھرگے سے دریافت کیا گیا کہ کیا جیوتی رادتیا سندیا کا نام لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر کی حیثیت سے لیا جارہا ہے تو انھوں نے کہا کہ اس بات کی انھیں کوئی اطلاع نہیں ہے۔